بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا؛ جیو پولیٹیکل تجزیہ کار آرنو برٹرینڈ (Arnaud Bertrand) نے کہا کہ اگر چین نے اس سال تیل کی درآمدات میں زبردست کمی نہ کی تو خام تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی، اور عالمی معیشت کو اپنے ساتھ لے ڈوبے گی۔ یہ وہ نظریہ ہے جس سے دوسرے تجزیہ کاروں نے بھی اتفاق کیا ہے۔
برٹرینڈ کا کا کہنا ہے کہ چین نے ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جارحیت کے دوران خام تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی کرکے، توانائی کی عالمی منڈی پر دباؤ کم کرنے میں مدد دی ہے۔
برٹرینڈ نے بلومبرگ کے تجزیہ کار جاویئر بلاس (Javier Blas) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے، کہا ہے کہ چین کی سمندری سطح پر خام تیل کی درآمدات تقریباً 11-12 ملین بیرل یومیہ سے کم ہو کر 6 ملین سے کم رہ گئی ہیں۔ اس کمی نے بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لئے مزید تیل آزاد کر دیا، جس سے تیل کی قیمتوں کا بحران روک لیا گیا۔
بریٹرینڈ کے مطابق، چین طویل عرصے سے سمندری تیل کی نقل و حمل کے راستوں پر انحصار کے بارے میں فکر مند ہے۔ آبنائے ملاکا - دنیا کے سب سے اہم توانائی کے چوکیوں میں سے ایک - چین کی تیل کی درآمدات کی نقل و حمل میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔
چین کے سابق صدر ہوجن تاؤ نے 2003 کے اوائل میں ہی اس انحصار کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ تب سے، بیجنگ نے تیل کے تزویراتی ذخائر کو وسعت دی ہے، قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو ترقی دی ہے، اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو کو فروغ دے کر اپنی معیشت پر توانائی کی رکاوٹوں کا خطرہ کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اس لحاظ سے توانائی کا حالیہ بحران ان پالیسیوں کے حقیقی امتحان کا کردار ادا کر رہا ہے۔
برٹرینڈ کے تجزیئے کی بنیاد پر، چین نے اپنے تیل کے ذخائر سے فائدہ اٹھایا، ذخیرہ سازی کم کر دی، پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات اور ذخیرہ سازی کو عارضی طور پر محدود کر دیا، اور اسی تناسب سے ایندھن کی قلت کا سامنا کئے بغیر، اپنی درآمدات کو کم کر دیا۔
مزید برآں، ایندھن کی قیمتوں پر ریاستی کنٹرول نے ریفائنریوں کو مہنگے خام تیل کی خریداری میں کمی کرنے کی ترغیب دلائی۔ نتیجتاً، چین کے گھریلو پالیسی کے فیصلے، عالمی سطح پر تیل کی فراہمی اور قیمتوں پر اثرانداز ہوئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ